پونے، 26 جون(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مہاراشٹر کے کھیڈ-راج گرونگر پولیس تھانے میں فوج کے کرنل کیدار گایکواڑ کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 143، 144 اور 149 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔کرنل گایکواڑ پر مسلح شخص دستے کے ساتھ مل کر گاؤں والوں کو دھمکانے اور کھیت میں فصل برباد کرنے کا الزام ہے۔اس سلسلے میں منگل کو کولہاپور رینج کے آئی جی ڈاکٹر سہاس وارکے کے ساتھ پونے کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کھیڈ پولیس اسٹیشن پہنچے۔انہوں نے تقریبا دو گھنٹے تک ان تمام لوگوں کے بیان، جو متنازعہ زمین کے خرید و فروخت سے منسلک ہیں،دونوں اعلی حکام نے متنازعہ زمین اور کھیت کا معائنہ کیا، لیکن میڈیا سے بات کئے بغیر ہی نکل گئے۔اس دوران جس شخص نے کرنل پر کھیت اور فصل برباد کرنے کا الزام لگایا، اس نے بات چیت کی۔متاثر نے بتایا کہ اس نے 65 ایکڑ زمین کرنل گایکواڑ کے رشتہ داروں سے خریدی ہے اور زمین خریدنے کے دوران تمام قوانین پر عمل کرتے ہوئے کیا۔وہیں گلانی گاؤں کے پولیس پاٹل (پولیس دوست) نے بتایا کہ کرنل پر لگے الزام غلط ہے۔کھیت یا فصل کو دستے نے نقصان نہیں پہنچایا ہے۔پولیس پاٹل کیتن تانبے کے مطابق فوجی اگرچہ گاؤں آئے تھے، لیکن انہوں نے کسی کو دھمکایا نہیں،تین چار فوجی شاٹ گن بھی لئے تھے، لیکن انہوں نے فصل ضائع نہیں کیا۔پولیس پاٹل کے مطابق اب عدالت طے کرے گی کہ زمین کے خرید و فروخت میں فوجی اور افسران غلط ہیں یا شکایت درج کرانے والا۔ خصوصی بات چیت میں کرنل کیدار گایکواڑ کے کہا کہ انہوں نے گاؤں میں نہ کوئی دہشت پھیلائی اور نہ ہی کھیت اور فصل کو نقصان پہنچایا۔کرنل کا الزام ہے کہ سنیل بھرے اور رشتہ داروں نے ان کی (کرنل کی) نانی کے جعلی موت سرٹیفکیٹ بنا کر ان کی آبائی زمین غیر قانونی طریقے سے خریدی ہے۔ادھر پونے میں فوج کے جنوبی کماڈ نے ایک خط جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کرنل کیدار گایکواڑ نے گاؤں میں فوجی ٹرک لے جاکر کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔اس خط میں یہ بھی کہا گیا کہ فوجیوں نے گاؤں میں کسی بھی طرح کی کوئی دہشت نہیں پھیلائی۔دھمکانے کی بات تو دور کسی نے گاؤں والوں سے بات بھی نہیں کی۔